Untold Storiess
Edit
Youm E Shahadat Hazrat Umar E Farooq

Youm-e-Shahadat Hazrat Umar-e-Farooq [RadhiAllahu Anhu] | یکم محرم الحرام یوم شہادت

2+
Al-Farooq | The One Who Distinguishes Between Right And Wrong

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu]

یکم محرم الحرام یوم شہادت

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu] |By Hafiz Ifrahim | امیر المومنین ،خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکۃ المکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد قبیلہ بنو عدی میں خطاب بن نفیل کے گھر ہوئی۔ آپؓ صحابی رسول اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔ آپؓ کا شمار عشرے مبشرہ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی، ان میں ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ رسول اللہ ؐ کے خسربھی ہیں ۔آپؓ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما رسول اللہؐ کی ازواج میں سے ایک ہیں۔آپؓ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص ہے۔ لقب و کنیت دونوں محمدﷺ کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اللہ ؐسے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہؐ مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمرؓ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ 

Todaypk, daily Pakistan, today.pk, dailypakistan, bbc urdu Pakistan, e sahulat, today pk, jang.com.pk, jang breaking news, daily jang latest news,

dawn news urdu, daily express urdu, urdu news paper, the news urdu, articles, qaumi akhbar, urdu columns, pak urdu news, daily express (urdu newspaper), jang akhbar, daily express urdu newspaper, hamid mir column, express urdu newspaper, urdu writing online, pak news urdu, daily urdu columns, urdu news point,

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu] | یکم محرم الحرام یوم شہادت

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے ان لوگوں میں ہوتا تھا جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ جب حضور ؐ نے پہلے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو حضرت عمرؓ اسکے مخالف تھے۔ آپ ؐ کی دعا سے آپ نے نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد مشرف بااسلام ہوئے۔ اسی لئے آپکو مراد رسول کہا جاتا ہے۔”آپؓ کے اسلام لانے پر فرشتوں نے بھی خوشیاں منائی تھیں” (مستدرک حاکم)۔ ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کیلئے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپؓ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپؓ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ‘ ‘تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے”۔ مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ رسول اللہ ؐ نے آپؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، آپ جس راستے پر چلتے ہیں شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے” (مصنف ابن ابی شیبہ)۔ ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کی معیت میں رہے۔ 

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور ؐ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپؓسے فیصلہ کیلئے کہا۔ آپؓ کو جب علم ہوا کہ نبیؐ کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبیؐکا فیصلہ نہیں مانتا میرے پاس اس کا یہی فیصلہ ہے۔کئی مواقع پر نبی کریمؐ کے مشورہ مانگنے پر جو مشورہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دیا قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔ 

حضرت عمر فاروقؓ باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران تھے۔ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ حق و صداقت کے علمبردار تھے۔ امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے وقت وصال امت کی زمام آپؓ ہی کے سپرد کی تھی، 22؍جمادی الثانی 13 ھجری کو آپ مسند نشین خلافت ہوئے۔آپؓ کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ آپ ہی کہ دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آگیا۔آپؓ نے 22 لاکھ مربع میل کے رقبے پر اسلام کا جھنڈا لہرایا اور قبلہ اول بیت المقدس کی شاندار فتح کا سہرا بھی آپ کے سر ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔آپؓ کا دور خلافت عدل و انصاف کا درخشندہ باب اور مثالی دور ہے نیز بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ آپؓ ہی نے تقویم اسلامی (اسلامی کیلنڈر) کی ابتداء ہجرت مدینہ کی بنیاد پر یکم محرم الحرام سے کروائی۔ مفتوحہ علاقوں میں900 جامع مساجد اور 4000 عام مساجد تعمیر کروا کر اس میں تعلیم و تدریس کا انتظام کروایا، جب کہ حرمین شریفین کی توسیع بھی آپؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔تاریخ کی سب سے پہلی مردم شماری ،کرنسی سکہ کا اجراء،مہمان خانوں(سرائے) کی تعمیر،لاوارث بچوں کی خوراک ،تعلیم و تربیت کا انتظام اور وطائف کا اجراء دور فاروقی میں کیا گیا۔ آپؓ کا مقام و مرتبہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ”میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمر بن خطاب ہوتے۔”(ترمذی) 

27 ؍ذی الحجہ سن 23ھ بروز بدھ کو مسجد نبوی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کی امامت کررہے تھے۔نماز کے دوران ابو لؤلؤفیروز نامی بدبخت مجوسی غلام نے زہر آلود خنجر سے آپؓ کے جسم مبارک پر تین چار وار کئے۔ جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ زخمی ہوکر گر پڑے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ آپؓ کو بے ہوشی کے حالات میں گھر لایا گیا۔ ہوش آنے پر آپکو جب یہ بتایا گیا کہ حملہ آور مجوسی تھا تو آپؓ نے اس بات پر اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ حملہ آور مسلمان نہیں تھا۔آپؓ کے علاج کے باوجود افاقہ نہیں ہو رہا تھا ،اس دوران اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر کہیں کہ عمر کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے رفقا ء کے جوار میں دفن ہونے کی اجازت دے دی جائے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام سننے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”بخدا یہ جگہ میں نے اپنے لیے منتخب کرلی تھی ،لیکن آج کے دن میں یہ قربان کئے دیتی ہوں۔” تین دن کرب میں گزارنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یکم محرم الحرام سن 24 ھ جام شہادت نوش فرماگئے۔آپؓ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ (المنتظم) روضہ نبوی میں حضرت محمد رسول اللہ ؐاور خلیفۂاول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پہلو میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ اور یوں عدل و انصاف کا آفتاب ومہتاب غروب ہو گیا۔ یہ مشیعت خداوندی ہی ہے کہ اسلامی سال کی ابتداء ہی شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوتی ہے اور پھر مرقدرسول اللہؐ کے سرہانے تاقیامت استراحت کیلئے دو گز جگہ بھی عطا فر مادی گئی۔ قیامت تک جو بھی مسلمان روضۂ اقدس میں سلامی کیلئے حاضر خدمت ہوگا وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر سلام بھیجے بغیر آگے نہ بڑھ سکے گا۔ دشمنان صحابہ کا منہ بند کرنے کیلئے یہ ایک اعزاز خداوندی ہی کافی ہے۔

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu] | یکم محرم الحرام یوم شہادت
Urdu Article By
Hafiz Ifrahim
Writer

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu] | یکم محرم الحرام یوم شہادت

More from
#Trending

Click the tabs blow to cheek the latest articles in the same catagory

The Stories Within
The Tsunami of Inflation | مہنگائی کا سونامی
20Oct

The Tsunami of Inflation | مہنگائی کا سونامی

0 The Tsunami Of Inflation مہنگائی کا سونامی The Tsunami Of Inflation | مہنگائی کا سونامی | Urdu Article | By Naeem Ud Din Farooqi | پاکستان میں ہر سیاسی

Quota System In Pakistan | کوٹہ سسٹم
16Oct

Quota System In Pakistan | کوٹہ سسٹم

0 Quota System In Pakistan کوٹہ سسٹم Quota System In Pakistan | کوٹہ سسٹم | Urdu Article | By Neeam Uddin Farooqui |  قیام پاکستان سے لیکر1985 تک کراچی سے

Who will Protect Us? | ہمارا محافظ کون
13Sep

Who will Protect Us? | ہمارا محافظ کون

1+ Who Will Protect Us? ہمارا محافظ کون Who Will Protect Us? | Urdu Article | By A.F.K | میں کیا لکھوں؟ لکھوں بھی کہ نہیں۔ یہ سمجھنے سے میں قاصر

Justice for Marwa | مروہ کو انصاف دو
08Sep

Justice for Marwa | مروہ کو انصاف دو

5+ Justice For Marwa مروہ کو انصاف دو Justice For Marwa | Urdu Article | Meher Fatima |  ستم ظریفی وقت نے کلیوں کی نزاکت کو دلوں کی محبت کو

Defense Day of Pakistan | یومِ دفاعِ پاکستان
06Sep

Defense Day of Pakistan | یومِ دفاعِ پاکستان

3+ Defense Day Of Pakistan یومِ دفاعِ پاکستان Defense Day Of Pakistan | یومِ دفاعِ پاکستان | Urdu Article | By A.F.K |  6 ستمبر۔ یوم دفاع کا دن۔ یہ

Karachi is Drowning – Who is Responsible | استدعا کراچی
03Sep

Karachi is Drowning – Who is Responsible | استدعا کراچی

2+ Karachi Is Drowning – Who Is Responsible استدعا کراچی Karachi Is Drowning – Who Is Responsible | By Ayesha Siddique |  دیگر تمام اشہار میں جب ابر رحمت مہربان

Youm-E-Shahadat Hazrat Umar-E-Farooq [RadhiAllahu Anhu] | یکم محرم الحرام یوم شہادت

Cheek out the Latest Updates from Untold Storiess:

2+

What are your Thought's ..???