Untold Storiess
Mental Health

Mental Health | دماغی حالت

1+
Mental Health

Mental Health

دماغی حالت

Mental Health | Urdu Article | By A.F.K | آج میں بات کروں گی مینٹل ہیلتھ یعنی دماغی صحت کے بارے میں۔ اس موضوع پر اور بھی لکھاریوں نے لکھا ہے جس کے لیے میں ان سب کی ممنون ہوں۔ ممنون اس لیے ہوں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کسی سائکیٹریسٹ کے پاس جانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے یا کن وجوہات کی وجہ سے ایسا سمجھا جاتا ہے یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے۔ آج میں صرف اس بات پر روشنی ڈالوں گی کہ کن لوگوں اور وجوہات کی وجہ سے سائکیٹریسٹ کے پاس جانے کی یا پھر خودکشی کرنے کی نوبت آتی ہے۔

اگر ایک معاشرے میں خودکشیاں عام ہو جائے تو کہیں نا کہیں معاشرہ جواب دہ ہوتا ہے۔ بلکہ جہاں ہم رہتے ہے وہاں تو پچاس فیصد معاشرہ ہی جواب دہ ہیں۔ سب سے پہلے تو ان باتوں کا ذکر کرتی ہوں جو دماغی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان میں سے چند ایک یہ ہے۔کتنی سانولی ہوں۔” “کتنی موٹی ہوتی جا رہی ہوں۔” “اتنی عمر ہو گئی ہے ابھی بھی گھر بیٹھی ہو۔پڑھو گے نہیں تو کماؤ گے کیسے ، سانولے ہو کوئی بات نہیں لڑکوں کا رنگ کون دیکھتا ہے۔

Todaypk, daily Pakistan, today.pk, dailypakistan, bbc urdu Pakistan, e sahulat, today pk, jang.com.pk, jang breaking news, daily jang latest news,

dawn news urdu, daily express urdu, urdu news paper, the news urdu, articles, qaumi akhbar, urdu columns, pak urdu news, daily express (urdu newspaper), jang akhbar, daily express urdu newspaper, hamid mir column, express urdu newspaper, urdu writing online, pak news urdu, daily urdu columns, urdu news point,

Mental Health | دماغی حالت

اور فلاں فلاں جملے۔ ایک بات میں یہاں واضح کردوں یہ فقرے اچانک حملہ نہیں کرتے یعنی ایک آدھ بار سن لینے سے انسان اداس ضرور ہوتا ہے مگر ڈپریشن یا خود کشی کی نوبت نہیں آتی۔ یہ بات میں نے ان لوگوں کے لیے کہی ہے جو یہ کہتے ہے کہ ‘ہم نے تو ایک ہی بار کہا تھا انسان کو اتنا بھی جذباتی نہیں ہونا چاہیے کہ خودکشی ہی کرلے۔

سب سے پہلے تو میں بات کروں گی ان لوگوں کی جو کہتے ہے ‘ڈپریشن کچھ نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو پھر ہمیں کیوں نہیں ہوتا ہم بھی تو وہی باتیں سنتے آئے ہیں جو تم لوگ سن رہے ہوں۔” اگر آپ ان لوگوں میں شامل ہے تو سب سے پہلے یہ کہ آپ لوگ بہت بہادر ہے۔ دوسرا کہ آپ لوگ بہادر ہونے کے ساتھ خوش قسمت بھی ہے کیونکہ آپ کی ذات مکمل ہے۔ بے شک اللہ نے ہر کسی کو مکمل بنایا ہے پر جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہے انہیں اپنی ذات نا مکمل لگتی ہے۔ انہیں اپنے اندر ایک کمی محسوس ہوتی ہے۔ اور جو لوگ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے، تو کہیں نا کہیں ان کے پیچھے، انہیں سہارا دینے والا، اعتماد دینے والا ہوتا ہے۔ وہ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ وہ ‘کچھ’ بھی ہوسکتا ہے۔ آپ لوگ بہادر ہے اور میں یا جو کوئی بھی اس موضوع پر بات کرتا ہے۔ وہ آپ بہادر لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ وہ تو کمزور لوگوں کی بات کرتا ہے۔ وہ لوگ جو بہادری کا خول چڑھائے رکھتے ہیں، وہ لوگ جو زندگی کی ڈور میں بھاگتے بھاگتے تھک جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے پیچھے کچھ بھی نہیں ہوتا جو انہیں سہارا دے۔

اگر آپ پر اللہ کا کرم ہے اور آپ مکمل ہے تو دوسروں کو مکمل کرے۔ انہیں سہارا دے ان کا سہارا چھینے نہیں۔ اپنی سوچ کو وسعت دے۔ جو غلط ہے اس کو غلط ٹھہرانے میں جلدی نا کرے۔ آپ کا ایک لفظ۔ بس ایک لفظ۔ کسی کے لیے ‘آب حیات’ تو کسی کے لیے ‘موت کا پروانہ’ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان لفظوں میں بہت تاثیر رکھی ہے اللہ نے۔ ان کا سوچ سمجھ کر استعمال کرے۔

 اب میں باری باری چھوٹے سے بڑے درجے کے لحاظ سے بات کروں گی۔

سب سے پہلے گھریلو سطح پر بات کرتے ہیں۔ میں یہ اچھے سے سمجھتی ہوں کہ ہمارے گھر والے ہمارا کبھی برا نہیں چاہتے اور نا ہی وہ ہمارا برا کرتے ہیں۔ پر اگر ضرورت ہے کسی چیز کی تو وہ توجہ کی ہے۔ جس زمانے سے وہ لوگ تعلق رکھتے ہیں وہاں اتنی نفرت نہیں ہوتی تھی۔ مجھے بہت افسوس ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ آج جس معاشرے کا ہم حصہ ہے اس میں نفرت بہت عام ہوچکی ہے۔ والدین سے میری بس ایک ہی گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی بات سنے انہیں حوصلہ دے کہ وہ آپ سے باتیں شئیر کر سکے اور سب سے ضروری انہیں صحیح اور غلط کی تربیت دے۔ انہیں بتائے کہ کسی کو بے جا تکلیف نہیں دینی۔ چاہے وہ بے زبان جانور ہو یا جیتا جاگتا انسان۔

اب ذرا معاشرتی سطح پر بات کرتے ہیں۔

سب سے پہلے اسکولز کی بات کروں گی۔ آج کل ہمارے اسکولز میں ہو کیا رہا ہے۔ وہ بچے جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ ‘بچے من کے سچے’ ان بچوں کو آخر ہو کیا گیا ہے۔ میجوڑٹی بچے جھوٹ بولتے ہیں دوسروں کو (Bully)

 کرتے ہیں۔ اس سب کے لیے جواب دہ کون ہیں؟ وہ بچے، ٹیچرز یا ان کے ماں باپ۔ ماں باپ کہتے ہیں کہ بچے باہر سے سیکھ رہے ہیں۔ ٹیچرز کہتے ہیں کہ تربیت کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔ تو آخر جواب دہ ہے کون؟ کبھی سوچا ہے جب یہ بچے دوسرے معصوم بچوں کو bully

 کرتے ہیں تو ان معصوم بچوں پر کیا گزرتی ہے۔ ان کے ذہنوں پر کسطرح کا اثر پڑتا ہے۔ پھر کل کو یہی بچے جاکر عدم اعتمادی ، ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں یا تو پھر اس سے بھی برا۔ یہ بچے انہی Bullies

 کی فہرست میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔چلو یہ تو پھر بھی بچے ہیں۔ انہیں سمجھایا جاسکتا ہے پر سمجھائے کون؟ ہمارے بڑے تو خود یہ سب کرتے ہیں وہ بچوں کو کس منہ سے سمجھائے گئے۔ میں شوشل میڈیا کی بات کرتی ہوں۔ شوشل میڈیا میں تقریبا سو میں سے نویں فیصد پوسٹز کے نیچے برے کمنٹس مل جائے گئے۔ کوئی کسی کو برا بھلا کہہ رہا ہوگا تو کبھی کوئی کسی کو اور یہاں لفظ میں نے ‘برا بھلا’ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ تنقید نہیں برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی کسی ایکٹریس کو بول رہا ہوتا ہے تو کبھی کوئی کسی اور کو۔ ان لوگوں سے میرا ایک ہی سوال ہے آپ کون ہوتے ہیں برا بھلا کہنے والے؟ ہاں آپ کو رائے دینے کا حق ہے، تنقید کرنے کا حق ہے۔ پر برا بھلا کہنے کا حق نہیں ہیں۔ ہم برے نہیں ہیں نا یہ معاشرہ برا ہیں۔ ہم میں بس احساس کی کمی ہیں۔ خدارا ایک دوسرے کا احساس کرے۔

اختتام میں ، ان لوگوں سے جو اس معاشرے کی سوچ بدلنا چاہتے ہیں۔ ان سے صرف اتنا ہی کہوں گی کہ کیا ہوا اگر ہم آج کا معاشرہ نہیں بدل سکتے مگر ہم ‘کل’ کا معاشرہ تو بدل سکتے ہیں۔ معاشرہ ہم سے ہیں۔ ایک فرد ایک نسل بدل سکتا ہیں۔ اٹھے اور ہمت کرے۔ میں آپ سے کچھ زیادہ نہیں مانگ میں بس اتنا کہہ رہی ہوں کہ خدارا ایک دوسرے کا احساس کرے، چاہے وہ آپ کی فیملی ہو یا نا ہو۔ میں آپ کو گارنٹی دیتی ہوں کہ آپ کسی کا احساس کرے گے تو آپ کو اس کا بدلا ضرور ملے گا۔

آئے ہاتھ بڑھائے، ہمت کرے اور دوسروں کو حوصلہ دے۔ کیا پتا کسی کو آپ کی وجہ سے زندگی مل جائے۔ سوچے، سمجھے اور عمل کرے۔ اللہ نگہبان۔

Mental Health | دماغی حالت
Urdu Article By
Mehar Fatima
Editor

Mental Health | دماغی حالت

More from
Disabled Society

Click the tabs blow to cheek the latest articles in the same catagory

The Stories Within
Reality Behind the Face | پلاسٹک کے لوگ
14Oct

Reality Behind the Face | پلاسٹک کے لوگ

0 Reality Behind The Face پلاسٹک کے لوگ Reality Behind The Face | پلاسٹک کے لوگ | Urdu Article | By Zoha Altaf | مال و دولت, سونے اور پیسے

Lower Your Gaze | غض البصر
08Oct

Lower Your Gaze | غض البصر

1+ Lower Your Gaze غض البصر Lower Your Gaze | Urdu Article | By Hafiza Rubab  آج معمول کی نسبت زیادہ گرمی تھی۔وہ عموماََ بازار نہیں جاتی تھی کیوں کہ

jealousy and envy | غیرت
02Oct

jealousy and envy | غیرت

0 Jealousy And Envy | غیرت غیرت Jealousy And Envy | غیرت | Urdu Article | By Hafiza Rubab |         اوئے یار لڑکی چک کر”۔فائز نے جمال

Mental Health | دماغی حالت
15Sep

Mental Health | دماغی حالت

1+ Mental Health دماغی حالت Mental Health | Urdu Article | By A.F.K | آج میں بات کروں گی مینٹل ہیلتھ یعنی دماغی صحت کے بارے میں۔ اس موضوع پر اور

Who will Protect Us? | ہمارا محافظ کون
13Sep

Who will Protect Us? | ہمارا محافظ کون

1+ Who Will Protect Us? ہمارا محافظ کون Who Will Protect Us? | Urdu Article | By A.F.K | میں کیا لکھوں؟ لکھوں بھی کہ نہیں۔ یہ سمجھنے سے میں قاصر

How to be Nice with your Parents | والدین کی ناراضگی ختم کرنے کے گُر
03Aug

How to be Nice with your Parents | والدین کی ناراضگی ختم کرنے کے گُر

3+ How To Be Nice With Your Parents والدین کی ناراضگی ختم کرنے کے گُر How to be nice with your parents | By Hafiz Ifrahim |  ایک عالم دین

Mental Health | دماغی حالت

Cheek out the Latest Updates from Untold Storiess:

1+

What are your Thought's ..???