Untold Storiess
Edit
Hypocrisy of Pakistani Media

Hypocrisy Of Pakistani Media — ہمارا میڈیا اور منافقت

6+
Hypocrisy of Pakistani Media
Hypocrisy of Pakistani Media

ہمارا میڈیا اور منافقت

        ہم کس سمت جا رہے ہیں
میر شکیل الرحمان کا نام آپ سب نے یقینا سنا ہی ہو گا کیونکہ آجکل میڈیا پر ان کے کیس کو لے کر کافی چرچا ہے۔ میر شکیل ایک میڈیا پرسن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک
Philanthropist
بھی ہیں یا آسان الفاظ میں کہہ لیا جائے تووہ سماجی کارکن بھی ہیں۔
1990 میں نواز حکومت کے جنگ گروپ کے کچھ سٹاف میمبرز کو نکالنے کے احکامات نہ ماننے کی پاداش میں ان پر چالیس ملین امریکی ڈالر  کی ٹیکس چوری کے الزام لگا کر کیس فائل کیے گئے جو کہ بعد میں میرشکیل کے کچھ چیزیں پبلک کر دینے کی وجہ سے خارج کر دئیے گئے تھے۔
انکا میڈیا نیٹ ورک جیو ٹی وی ، جنگ گروپ وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ آجکل  جیو ٹی وہ ان پر نیب کی طرف سے کیے گئے کیس اور گرفتاری کو آزادی صحافت سے بڑی شدو مد سے جوڑتا نظر آتا ہے۔  جیو ٹی وی کے ہر نیوز بلیٹن میں پوری طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ میرشکیل کی گرفتاری کے پیچھے حکومت ملوث ہے۔
لیکن ہم میں سے بہت کم لوگوں نے اس نکتے کی طرف توجہ دی ہو گی کہ
میر شکیل پر جو کیس نیب نے بنایا ہے وہ انکی پراپرٹی کے متعلق ہے اور اسی سلسلے میں12 مارچ 2020 کو  انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام کے کہ انہوں نے 52 کنال لاہور میں خریدی گئی زمین  اس وقت کی نواز حکومت کی مد میں غیر معمولی رعایت حاصل کی جو کہ غیر قانونی ہے۔ بہت سے صحافتی حلقوں کی جانب سے اس گرفتاری کی مزمت کی جا رہی ہے۔
بشمول امریکی قانون ساز گروہ انکی گرفتاری کو صحافت کے خلاف قدم کہہ رہے ہیں۔ مگر ہم میں سے کوئی بھی اس نکتے کو اٹھانے کی زحمت نہیں کر رہا کہ زاتی پراپرٹی کی خریداری کے حوالے سے بنائے گئے کیس میں میڈیا کی صحافت کیسے خطرے میں پڑے گی؟
ہمارے ملک میں ہمیشہ سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ہم اپنی طاقت اور کرسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیو نیوز صبح سے لے کر شام تک حکومت کے خلاف اس حوالے سے پروپیگنڈا کرتا نظر آتا ہے اور باقاعدہ طور پر منظم طریقے سے وزیراعظم کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔  جبکہ
asian
پروگرام کے کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر کا کہنا ہے کہ ایک 34 سالہ پرانے کیس پر یہ گرفتاری کرنا پاکستان (جو خود کو ایک ایسی جمہریت کہتا ہےجہاں پریس صحافت کو مکمل آزادی حاصل ہے) کا مزاک اڑانا ہے۔ لیکن مجھے کہنا یہ ہے کہ نیب ایک ملکی ادارہ ہے اسکا کام ہی احتساب ہے  اگر وہ کسی بھی با رسوخ شخص پر کیس بنا کر اسے گرفتار کرتا ہے تو اسکا ملبہ حکومت پر ڈالنے کی تک کسی بھی با شعور شخص کو سمجھ نہیں آئے گی۔
جیو ٹی وی اور جنگ گروپ کا حکومت کے خلاف ایجنڈا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے مگر ہر چیز اور ہر اقدام کا زمہ دار حکومت کو ٹھہرانے کا وطیرہ بھی نامناسب ہے خاص طور پر جب کہ کیے گئے کیس کا تعلق زاتی پراپرٹی سے ہے۔ اپنے فائدے کے لیے اپنے میڈیا میڈیا گروپ کے زریعے پروپیگنڈا کروانا بھی بہت سے سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر موہم چلانا اور پھر میڈیا پر ہر طرف اس کو پھیلانا کیا اتنا ہی آسان ہے؟
حکومت نہ چاہے تو بھی کیا ایساممکن ہے؟
کیا یہ بھی میڈیا کی آزادی کو واضح نہیں کرتا؟
ہم لوگ اپنے فائدے کے لیے اپنے ہی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے اور باہر کی دنیا کو ہم پر انگلیاں اٹھانے پر اکسا رہے ہیں۔اپنے ہی گھر کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگانے کی ریت اس آنگن میں بہت پرانی ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھے گا کہ کیس کیوں کیا گیا کس نے کیا سب یہ دیکھیں گے کہ میڈیا کے بندے پر کیس کیا گیا پھر چاہے اس کا جرم جس بھی نوعیت کا ہو اور جتنا بھی بڑا ہو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم لوگوں نے ہر چیز کے لیے ایک ڈھال ڈھونڈی ہوئی ہے۔ ہمارے ملک میں ہر طرف یہ دھڑے بندیاں ہیں چاہے صحافی ہوں یا وکیل ڈاکٹرز ہوں یا سیاستدانوں کی گروہ بندیاں یا پھر بیوروکریسی کے اختیارات ہوں پستہ ہے تو صرف عام آدمی اور ہمارا ملک۔
آخر کب تک ہم ایسے لوگوں کے دھوکے میں آکے اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکلی کرتے رہیں گے۔ کیا بحثیت قوم  ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو چکی ہیں؟
عام آدمی کے مسائل کو لے کر میڈیا کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ملک کا منفی تاثر دینے میں ہمارا میڈیا دنیا کے ہر پلیٹ فارم میں سب سے آگے کھڑا نظر آئے گا ہمارے میڈیا کی مثال بلکل ایسے ہی ہے کہ
“جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا”

Hypocrisy of Pakistani Media -- A general criticism on Pakistani Media.
Ghazal
Wajiha Chishti
Writer

Hypocrisy of Pakistani Media -- ہمارا میڈیا اور منافقت ​

For More Related Articles Visit the Tabs blow

کوویڈ-19 اور بے بس انسانیت

COVID-19 AND THE FATE OF HUMANITY

اژدھا صفت لوگ

HYPOCRISY OF PEOPLE

6+

What are your Thought's ..???