Untold Storiess
Edit
The Stranger

Ramadan & Islam | رمضان اور مسلمان

9+
The Stranger

Ramadan & Islam

رمضان اور مسلمان

Ramadan & Islam آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دارفانی سے پردہ فرما جانے کے بعد کئی صدیوں تک لوگ دین متین کے شاہراہ پر قائم و دائم رہے یہاں تک خیرالقرون کا زمانہ گزر گیا اور پھر رفتہ رفتہ زمانہ نبوت جس طرح دور ہوتا گیا اسی طرح عوام الناس سے دین اسلام کی رغبت کم ہوتی گئی،جہالت نے پر پھیلانا شروع کر دیا، باطل فرقے جنم لینے لگے اور یہود ونصاری دین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کرنے لگے،لیکن ناکامیوں کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا
اب ہم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ھے جس میں مسلمان جوق در جوق جمع ہونے لگے، یکایک مسلمانوں کی ٹھوس طاقت کا احساس بڑھنے لگا۔ رمضان کے پیش نظر کئی مسجدوں کو روشنیوں سے منور کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بڑی مساجد کے پاس رات کے اوقات میں روح پرور مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر مسلم اکثریتی علاقوںمیں رات دیر گئے تک گہماگہمی کا ماحول رہتا ہے۔ اِس ماہِ رمضان کے رویت ہلال کا اعلان ہونے سے ایک روز قبل تک جو مسلمان نمازِ عشاء کیلئے مسجد کا رُخ نہیں کرتے تھے بلکہ اندرون چوبیس گھنٹے کی دیگر چار فرض نمازوں (فجر تا مغرب) کی وقت پر ادائیگی سے بھی غافل رہتے تھے، وہ اب فرض نماز کے ساتھ سنت و نوافل کی ادائیگی کا بھی خاص اہتمام کرتے نظر آرہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ایسے مسلمانوں میں یہ مثبت تبدیلی قائم و دائم رہے اور جب بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی دینی فرائض کے تئیں دلچسپی بڑھے گی تو اُن کی زندگیوں کے حالات میں بھی ضرور اچھی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ اِن شاء اللہ!
تاہم، برسہابرس سے جاری مشاہدوں سے جو اندیشے پیدا ہورہے ہیں وہ باعث تشویش ہیں۔ اِس رمضان سے قبل تک کئی برسوں میں مجھے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ عامۃ المسلمین کی اکثریت نے نماز کو رمضان اور روزے سے مشروط کررکھا ہے۔ مسلمان ہونے کے باوجود بندگی کی سب سے بڑی علامت فرض نماز سے غفلت کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بدستور فضل فرماتا رہے۔ یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ زیادہ تر مسلمانوں نے رمضان کو ایک ماہ کا مخصوص موقع بنالیا ہے؛ کسی کو دینی امور کی کچھ جانکاری ہو تو وہ اِس ماہ کی حد تک روزوں کے ساتھ نمازوں کی پابندی کرلیتا؍ کرلیتی ہے بلکہ تراویح کے اہتمام سے بھی دلچسپی رکھتا؍ رکھتی ہے؛ کسی کو دینی امور اور فرائض سے معقول واقفیت نہ ہو تو وہ چند روزوں اور چند نمازوں کے اہتمام پر اکتفا کرلیتے ہیں؛
جب عامۃ المسلمین کی روِش ایسی ہوگی تو ہم اللہ کی مدد کے طلب گار کیوں کر ہوسکتے ہیں اور اللہ کی نصرت ہمارے لئے کیوں کر آئے گی۔ اسلام چند بنیادی اور ناگزیر پہلوؤں پر قائم ہے۔ اول، ایمان ہے تو مسلمان ہے؛ ایمان ہی نہیں ہے تو دنیا کے تمام غیرمسلم افراد اِس کسوٹی کے اعتبار سے آپس میں مساوی ہیں۔ ایمان کیا ہے اور ایمان لے آنے کے بعد کسی مسلمان کیلئے اُخروی کامیابی کیلئے کیا اقل ترین چیزیں درکار ہیں، اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔ سورہ (نمبر 2) البقرہ کی چند ابتدائی آیتوں کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے:…

Ramadan & Islam | رمضان اور مسلمان

قرآن مجید کے اللہ کی کتاب ہونے میں کوئی شک نہیں، جو پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے۔ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُس پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اُتارا گیا اور جو آپؐ سے پہلے اُتارا گیا، اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔ (آیات 2 تا 5)
ان آیتوں کی یوں تشریح بھی کی جاسکتی ہے کہ کتابِ الٰہی (قرآن مجید) گو کہ تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے نازل ہوئی ہے، لیکن اس چشمہ فیض سے سیراب صرف وہی لوگ ہوں گے، جو آب حیات کے متلاشی اور خوف الٰہی سے سرشار ہوں گے۔ جن کے دل میں مرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جواب دہی کا احساس اور اس کی فکر ہی نہیں، اُن کے اندر ہدایت کی طلب، یا گمراہی سے بچنے کا جذبہ ہی نہیں ہوگا تو اُن کو ہدایت کہاں سے اور کیوں کر حاصل ہوسکتی ہے؟ ایمان کیلئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ ؍ بندی غیب کی باتوں پر یقین رکھے یعنی ایسی چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک عقل و حواس سے ممکن نہیں۔ جیسے ذاتِ باری تعالیٰ، وحی الٰہی، جنت، دوزخ، ملائکہ وغیرہ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی بتلائی ہوئی ماورائے عقل و احساس باتوں پر یقین رکھنا ہی جزو ایمان ہے اور ان کا انکار کفر و ضلالت ہے۔ صاحب ِ ایمان ہونے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقامت صلوٰۃ کی فرضیت ہے یعنی پابندی سے سنت نبوی صلعم کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے (یہاں اللہ تعالیٰ نے تخصیص نہیں کی کہ نمازوں کی پابندی رمضان کے روزوں میں جو ش و خروش سے کرنا چاہئے، نیز ماقبل اور مابعد رمضان نماز
Optional یا اختیاری ہوجاتی ہے؛ نیز پورا رمضان عبادت کا اہتمام کرلیا اور مان لو کہ شب قدر بھی نصیب ہوگئی، تب بھی رمضان کے بعد فرض نمازیں معاف نہیں ہیں) اور کسی فرد پر زندگی میں جب نماز فرض ہوجائے تو پھر تاحیات اس فرض سے چھوٹ نہیں ہے چہ جائیکہ وہ فرد عاقل نہ رہے اور ہوش جاتا رہے۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان صرف نام کا مسلمان رہ گیا ہے- جہاں ماہ رمضان کا مقصد دوسروں کو آرام  اور سکون پہنچانا ہے وہاں کم آمدنی والے لوگ مہنگائی کی وجہ سے سحری اور افطاری میں سوکھی روٹی اور پانی سے گزارا کر لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دسترخوان طرح طرح کے کھانوں سے سجے ہوتے ہیں- کاش ایسا ہوتا کہ ان لذیز کھانوں سے بھری ہوئی دسترخوان کا کچھ حصہ بچا کر ایک غریب گھرانے میں دیا جاتا اور انہں بھی اپنی خوشی میں شامل کیا جاتا تو اسلام کے تعلیمات کی پاسیداری ہوجاتی جیسے کیہ فرمایا گیا ہے‘ کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لۓ بھی وہ پسند کریں جو وہ اپنے لۓ پسند کرتا ہے-

ہم نے رمضان کریم اور اس کی فضیلت کو صرف مسواک کرنے، سُرمہ لگانے اور بھوکے پیاسے رہنے کی حد تک محدود رکھا ہے-ضرورت اب اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان یہ بات جان لے کہ مسلمان کے لۓ سال کے بارہ مہینے کا  روزہ ہوتا ہے-  یہ ایک مسلمان کی ہاتھ کا روزہ، آنکھ کا روزہ، اور زباں کا روزہ ہے-  اگر ہم یہ بات جان لیں اور اپنی عملی زندگی کا حصہ بنالے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جاۓ گا-

آئیے! ہم سب اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور پھر اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں فرض نماز کا عادی بنائے، فرض نمازکی ادائیگی ہم پر آسان کردے۔ ہمیں نام و نمود اور ریاکاری سے بچاکر خالص رضائے الٰہی کی خاطر عبادات میں اولیت و فرضیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان میں مشغول رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

Ramadan & Islam | رمضان اور مسلمان
حافظ افراہیم العاصم
Writer

Ramadan & Islam | رمضان اور مسلمان

More from
All About Islam

Click the tabs blow to cheek the latest articles in the same catagory

9+

What are your Thought's ..???